بِدعَت اور اُس کی قِسمیں

0

بدعت کا لغوی مفہوم :

ہر نئی چیز کو عربی زبان میں بدعت کہتے ہیں  ،  لیکن لغوی بدعت اور چیز ہے اور شرعی بدعت اور چیز ہے ۔
ہر لغوی بدعت حرام اور ناجائز نہیں ہے  ،  جب کہ ہر شرعی اور اصطلاحی بدعت حرام اور ناجائز ہے ۔
ب د ع  کے مادّے سے نکلنے والے مندرجہ ذیل الفاظ اور اُن کے مطالب پر غور کیجیے ۔
بَدَعَ  ،  یَبدَعُ  (ف)  بِدْع’‘  =  ایجاد کرنا
بَدِیع’‘  =  مُوجد
بَدِیعُ  السَّمٰوٰتِ  وَالْاَرْضِ  ۔ (البقرۃ : 117)  =  اللہ تعالیٰ زمین اور آسمانوں کا موجد ہے۔
بَدُعَ  ،  یَبْدُعُ  (ک)  بَدَاعَۃ’‘  =  بے مثال ہونا۔
اِبداع’‘  ،  اِبتداع’‘  =  نئی رسم  ،  نیا طریقہ یعنی  بدعت جاری کرنا ۔
تَبَدُّعُ  =  بدعتی ہو جانا
علمِ بَدِیع  =  علمِ بلاغت کی ایک قسم  ،  جس میں کلام کو حسین و جمیل بنانے کے لیے مختلف صنعتیں استعمال کی جاتی ہیں۔
البِدعَۃ’‘  (جمع  :  بِدَع’‘)  =  سانچے اور نمونے کے بغیر بنائی گئی نئی چیز ۔
لغوی اعتبار سے ہر بدعت حرام نہیں ہوتی ۔ بعض لغوی بدعتیں حرام ہوتی ہیں  ،  بعض لغوی بدعتیں مکرو ہ  ہوتی ہیں  ،  بعض لغوی بدعتیں مُباح ہوتی ہیں۔ لغوی بدعتیں   حَسَنَۃ  بھی ہو سکتی ہیں اور  سَـیِّـئَۃ  بھی  ،  لیکن شرعی بدعتیں تمام کی تمام   سَـیِّـئَۃ  اور حرام  ہوتی ہیں۔

بدعت کا شرعی اور اصطلاحی مفہوم :
اللہ تعالیٰ نے دینِ اسلام کو مکمل کر دیا ہے ۔ {اَلیَوْمَ  اکملتُ  لَکُمْ  دِیْنَکُمْ } (المائدہ : 3)اب اس میں نہ تو کوئی کمی کر سکتا ہے اور نہ کوئی اضافہ کر سکتا ہے ۔ دینِ اسلام میں ہر نئے اضافے کا نام بدعت ہے ۔ ہر بدعت گمراہی ہے اور دوزخ میں داخلے کا سبب بن سکتی ہے ۔
چنانچہ  رسول اللہ  ﷺ  نے فرمایا :
کُلُّ بِـدْعَۃٍ ضَـلَالَـۃ ُ ٗ  وَکُلُّ ضَـلَالَـۃٍ فِـی الـنَّـارِ ۔ (سنن  نسائی ، کتاب صلاۃ العیدین ، باب 22 ، حدیث  1577)
’’ ہر  بدعت  گمراہی  ہے  اور  ہر  گمراہی  جہنم  میں  لے  جانے  کا  باعث  ہوگی‘‘

عبادات میں بدعت کا مطلب  ،  ہر وہ نئی عبادت  ،  یا نئی رسم  ،  یا نیا طریقہ ہے  ،  جو ثواب سمجھ کر کیا جائے  ،
(ظاہر ہے ہر عبادت  ،  ثواب سمجھ کر ہی کی جاتی ہے  ،  جب کہ عادات میں بدعت کی تعریف مختلف ہے)
جیسے :  مغرب کی تین رکعتیں ہیں۔ اِن کو دو یا چار کرنا بدعت ہے۔ اِسی طرح ہر رعت میں ایک رکوع اور دو سجدے ہوتے ہیں۔ اگر آپ دو رکوچع اور ایک سجدہ کریں گے تو یہ بدعت ہوگی یا حضرت عبدالقادر جیلانی  ؒ  چھٹی صدی کے ایک نیک اور صالح حنبلی بزرگ گذرے ہیں  ،  جن کا انتقال  561 ھ میں ہوا ۔ اب اگر کوئی شخص  ،  رسول اللہ  ﷺ  کے 600 سال بعد  ،  ان کے نام سے گیارہویں کرتا ہے اور لاکھوں روپے خرچ کر کے اُس برسی کے دن  ،  ثواب کی نیت سے کھانا بنا کر کھلاتا ہے تو یہ بدعت ہو گی ۔ عقل بھی یہی کہتی ہے کہ اگر ہم ہزاروں انبیاء  ،  ہزاروں صحابہ ؓ  ،  ہزاروں تابعینؒ  ،  ہزاروں اولیاء ؒ اور  ہزاروں علماء کی پیدائش اور موت کے ایام کو منانا شروع کر دیں تو سال کے ہر دن ہمیں کئی جشن  یا  کئی ماتم کرنے پڑیں گے ۔
عادات میں  ،  قرآن و سنت کے محکم اُصولوں کی خلاف ورزی بدعت ہوگی ۔
عادات میں ہر بدعت  ،  ثواب سمجھ کر ادا  نہیں کی جاتی ۔ یہاں قرآن و سنت کے محکم بنیادی اُصولوں کی خلاف ورزی بدعت   مُتَصَوّر ہو گی۔  جیسے :  سہرا باندھنا ، یا مہندی کی رسم کرنا ، عریانی ، بے لباسی ، آلاتِ موسیقی کا استعمال ، ہر قسم کی موسیقی بشمول صوفیانہ موسیقی (Sufi Music)  وغیرہ وغیرہ ۔
کسی  غالب  تہذیب کی پیروی بھی مسلمانوں کے لئے بدعت ہو گی۔ جیسے: مغربی طرزِ معاشرت – ہندوستانی تہذیب کی پیروی وغیرہ۔
شرعی بدعت کے بارے میں دو اہم اُصول:
اسلام میں شرعی اور اصطلاحی بدعت کے تعین کے لیے (جو سراسر حرام ہے )دو (2) اہم اُصول ہیں ۔ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ ؒ نے   القواعد النورانیہ الفقہیہ میں ان کی وضاحت کی ہے۔
-1    پہلا اُصول یہ ہے کہ عبادات میں  ،  قرآن و سنت کے الفاظ اور اُس کی روح (Letter and Spirit)   دونوں کی  مِن و عَن  یعنی
سو فیصد (100%) پیروی کی جائے گی ۔ عبادات میں کسی قسم کا اضافہ بھی بدعت قرار دیا جائے گا  اورقطعاً حرام ہوگا ۔ یہاں اجتہاد حرام ہے۔
چنانچہ رسول اللہ  ﷺ  نے فرمایا :
صَلُّوْا  کَمَا  رَأَیْتُمُوْنِیْ  اُصَلِّی ۔ (بخاری ، کتاب الأذان)     ’’ لوگو  !  نماز اس طرح ادا کرو  ،  جیسے تم نے مجھے نماز پڑھتے دیکھا۔‘‘
خُـذُوْا  عَنِّی  مَـنَـاسِکَکُمْ  ۔     (صحیح مسلم، 1297)            ’’ لوگو  !  مجھ سے حج کے مناسک و آداب سیکھ لو۔‘‘
عبادات میں تمام ظاہری اعمال (Acts of Worship, Rituals)  بھی شامل ہیں اور باطنی اعمال بھی شامل ہیں ۔
ظاہری اعمال میں  ،  نماز  ،  حج  ،  طواف  ،  سعی  ،  رکوع  ،  سجدہ  ،  دُعا  ،  قربانی  ،  ذبیحہ  ،  وغیرہ شامل ہیں۔
-2    دوسرا اُصول عادات یعنی غیر عبادات سے متعلق ہے ۔ عادات میں قرآن و سنت کے بنیادی اُصولوں اور اُس کی روح (Spirit)  کو پیشِ نظر رکھنا ضروری ہے  ،  لیکن  مِن و عن اور سو فیصد (100%) پیروی لازمی اور ضروری نہیں ہے ۔ جیسے :  پاجامہ  ،  لنگی  ،  ڈھیلا ڈھالا پینٹ  ،  چادر یا شلوار شرعی بدعت نہیں ہے ۔ اِسی طرح بریانی  ،  پائے  ،  پیزا  ،  برگر  ،  پکوڑے  ،  کیک  ،  وغیرہ شرعی بدعت نہیں ہیں۔ اسی طرح گھڑی  ،  عینک  ،  موبائل فون  ،  کمپیوٹر  ،  موٹر کار  ،  ہوائی جہاز  وغیرہ بھی شرعی بدعت نہیں ہیں۔  عادات میں اجتہاد کا میدان بہت وسیع ہوتا ہے۔

Leave A Reply