اِسلام میں نَجات کا تَصَوُّر اور عقیدۂ شَفاعت

0

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْمِ

اِسلام میں نَجات کا تَصَوُّر
اور
عقیدۂ شَفاعت

خلیل الرحمن چشتی

House # 1, Street # 15A, E-11/4, GOLRA, Islamabad
Tel: 051-22 22 455 Tel: 051-22 22 466
Mobile: 0300- 55 60 900
Email:khaleelchishti@yahoo.com

 

اِ بتدائیہ

الْحَمْدُ لِلّٰہِ نَحْمَدُہٗ وَنَسْتَعِینُہٗ وَ نَسْتَغْفِرُہٗ وَنَتَوَکَّلُ عَلَیہِ وَنَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ شُرُوْرِ اَنْفُسِنَا ، وَمِنْ سَیِّاٰتِ اَعْمَا لِنَا ، مَنْ یَّھْدِہِ اللّٰہُ فَلَا مُضِلَّ لَہٗ، وَمَنْ یُّضْلِلْہُ فَلَا ھَادِیَ لَہٗ ،
وَ نَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ وَ نَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ، اَرْسَلَہٗ بِالْحَقِّ بَشِیْراً وَّ نَذِیْراً ۔
اَمَّا بَعْدُ ! فَاِنَّ خَیرَ الْحَدِیْثِ کِتَابُ اللّٰہِ، وَخَیْرَ الْھَدْیِ ھَدْیُ مَحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ ، وَشَرًّ الْاُمُوْرِ مُحْدَثَا تُھَا، وَ کُلَّ مُحْدَثَۃٍ بِدْعَۃٌ، وَ کُلَّ بِدْعَۃٍ ضَلَالَۃٌ، وَ کُلَّ ضَلَالَۃٍ فِی النَّارِ ۔

اسلام میں انسان کی نجات(Salvation)کے لیے دو (2) اُصول اور دو قاعدے بتائے گئے ہیں:

-1 پہلا قاعدہ ، عدل و انصاف کا قاعدہ ہے، یعنی (Rule of Justice)۔ اس قاعدے کے تحت ایمان (Faith) اور اعمال (Actions) ہیں ۔
-a مشرک کے لیے جنت حرام کر دی گئی ہے، اُس کا ٹھکانہ جہنم ہے ۔ البتہ کافروں کو اُن کی بداعمالیوں کے درجے کے مطابق ہلکی یا سخت مختلف سزائیں دی جائیں گی۔
-b مُوَحِّد یا تو بلاحساب جنت میں داخل ہوگا، یا پھر فسق و فجور کی وجہ سے جہنم میں سزا پاکر بالآخر جنت میں داخل ہوگا۔ جنت کے سو درجے رکھے گئے ہیں، تاکہ نیک لوگوں کو اُن کے اعمال کے مطابق مختلف درجات پررکھا جائے۔
-2 دوسرا قاعدہ ، اللہ تعالیٰ کی رحمانیت اور رحیمیت کا قاعدہ ہے ، یعنی مہربانی کا اصول (Rule of Mercy)۔ اسی کے تحت شفاعت (Intercession)ہے۔
یہ دونوں قاعدے ایک دوسرے کی نفی نہیں کرتے ۔ نہ تو قانونِ عدل ، قانونِ رحم کے منافی ہے اور نہ قانونِ رحم، قانونِ عدل کے منافی ۔ یہی وہ بات ہے ، جو رسول اللہ ﷺ نے اپنی ایک حدیث میں بیان فرمائی ہے کہ کوئی شخص بھی محض عمل کی بنیاد پر ، نجات حاصل نہیں کر سکے گا :

قَارِبُوْا ! وَسَدِّدُوْا ! وَاعْلَمُوْا ! اَنَّہٗ لَنْ یَّنْجُوَ اَحَدٌ مِنْکُمْ بِعَمَلِہٖ، قَالُوْا : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ! وَ لَا اَنْتَ ؟ قَالَ: وَلَا اَنَا ، اِلاَّ اَنْ یَتَغَمَّدَنِیَ اللّٰہُ بِرَحْمَۃٍ مِنْہُ وَفَضْلٍ‘‘ (صحیح مسلم ، صفۃ القیامۃ والجنۃ والنار ، باب 18 ، حدیث ، 7117)

’’ اللہ کا تقرب حاصل کرنے کی کوشش کرو ! اچھے اعمال پر استقامت اختیار کرو، لیکن یہ بھی خوب جان لو ! کہ تم میں سے کوئی شخص اپنے اعمال کے بل بوتے پر نجات نہیں پا سکے گا ، صحابہؓ نے پوچھا : یا رسول اللہ ! کیا آپؐ بھی نہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں! میں بھی صرف اسی صورت میں نجات پاؤں گا کہ اللہ اپنی رحمت اور فضل کے ساتھ مجھے ڈھانپ لے ۔‘‘
یہ حدیث، ایمان اور عمل کی بنا پر نجات کے بنیادی اُصول کی نفی نہیں کرتی، بلکہ اس حدیث کا صحیح مطلب یہ ہے کہ ہر آدمی چونکہ گناہ گار ہے ، اس لیے اُسے اپنے نیک اعمال کی بنیاد پر غرور اور تکبر میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے۔ ہر انسان اللہ تعالیٰ کی رحمت اور فضل ہی سے نجات پا سکتا ہے۔ ایک اچھا اور سچا مؤمن اللہ کی رحمت کی امید رکھتے ہوئے نیک اعمال کیے جاتا ہے اور اللہ کا تقرب حاصل کرتا رہتا ہے ۔

اسلام میں انسان کی نجات(Salvation)کے لیے دو (2) اُصول اور دو قاعدے بتائے گئے ہیں:

یہ دونوں قاعدے ایک دوسرے کی نفی نہیں کرتے ۔ نہ تو قانونِ عدل ، قانونِ رحم کے منافی ہے اور نہ قانونِ رحم،  قانونِ عدل کے منافی ۔ یہی وہ بات ہے ، جو رسول اللہ  ﷺ  نے اپنی ایک حدیث میں بیان فرمائی ہے کہ کوئی شخص بھی محض عمل کی بنیاد پر ، نجات حاصل نہیں کر سکے گا :

اسلام میں نجات کا تصور اور عقیدہ شفاعت   مکمل کتاب ڈاؤن لوڈ کیجیے

Leave A Reply