کیا موسیقی اور آلاتِ موسیقی حلال ہیں؟

0

سوال: آج کل یہ بحث چل پڑی ہے کہ کیا موسیقی اور آلاتِ موسیقی حلال ہیں؟ امام غزالیؒ ،  امام ابن حزم اندلسیؒ  اور ڈاکٹر یوسف القرضاویؒ کے علاوہ مشائخ صوفیا کے حوالے سے یہ بات کہی جاتی ہے کہ اُنہوں نے موسیقی کو حلال اور جائز ٹھہرایا ہے۔

قرآن ،  سنت ثابتہ، احادیثِ صحیحہ ،  اقوال صحابہؓ ،  اقوال تابعین اور فقہاء کے فتاویٰ کی روشنی میں وضاحت کیجئیے کہ اس سلسلے میں صحیح اور راجح مسلک کیا ہے؟

جواب:  یہ بات صحیح ہے کہ چند علماء نے اِس مسئلے پر اختلاف کیا ہے ۔ علماء کے اختلاف کی کئی وجوہات ہوتی ہیں۔
(1)    بعض اوقات اُن کے سامنے ایک نصّ ہوتی ہے اور دوسری نصّ نہیں ہوتی۔
(2)    بعض اوقات وہ وہم کا شکار ہو جاتے ہیں اور کسی صحیح نصّ کو ضعیف اور منقطع سمجھ بیٹھتے ہیں۔
(3)    بعض اوقات نصّ قوی کے بجائے ، نصّ ضیعف کو ترجیح دے بیٹھتے ہیں۔
(4)    بعض علماء علم فقہ میں اچھے ہوتے ہیں لیکن علم حدیث میں کمزور ہوتے ہیں۔
(5)    بعض علماء علم حدیث میں اچھے ہوتے ہیں لیکن علم فقہ میں کمزور۔
(6)    امام فقہاء اور علماء نبی کی طرح معصوم تو نہیں ہوتے، ان سے غلطی کے احکامات بہر حال ہو سکتے ہیں۔
ایسے میں بعد والوں کو دیکھنا پڑتا ہے کہ علماء کے اختلاف میں کس کو ترجیح دی جائے ۔

(1)    نصِّ وحی کو ہر حال میں مقدم رکھا جائے گا۔
{ غیر نبی کے قول } پر{نبی  ﷺ کے قول } کو ترجیح دی جائے گی۔

(2)    نصِّ وحی ( قرآن اور صحیح احادیث)کے بعد{ اجماعِ صحابہ ؓ } کو دیکھا جائے گا۔
(3)    اجماعِ صحابہؓ کے بعد ،  صحابہؓ  ،  تابعینؒ اور تبع تابعین ؒ کی آراء میں سے {اقرب الی الکتاب والسنہ} کو دیکھا جائے گا۔

موسیقی کے سلسلے میں مندرجہ ذیل (        ) غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں۔
(1)    صحیح البخاری کی حدیث منقطع ہے۔
(2)    دُفّ کی غیر مشروط اِجازت ہے۔
امام ابن حزم اندلسیؒ  کی غلط فہمی
موسیقی کے بارے میںصحیح البخاری کی حدیث میں کوئی انقطاع نہیں ہے ،  لیکن محض غلط فہمی کی وجہ سے امام ابن حزم اندلسی (م456ھ) جیسے عظیم محدث اور فقیہ بھی موسیقی کو حلال سمجھ بیٹھے۔
(1)  امام بخاریؒ  نے حَدَّثَنا  اور  اُخبرنا  کے بجائے قال کا لفظ استعمال کیا۔ انہیں یہ وہم لاحق ہوگیا کہ امام بخاری نے ھشامِ بن عمّار سے یہ حدیث نہیں سُنی ،  حالانکہ خود صحیح البخاری میں دو  اور مقامات پر ان سے سماع قطعی طور پر ثابت ہے۔
(2)  صحیح البخاری کے علاوہ یہ حدیث،  دوسرے محدثین نے بھی نقل کی ہے ،  جس پر کوئی اعتراض نہیں کیا جاسکتا۔
ابن حبان ،  طبرانی،  ابن ماجہ،  مسند احمد،  ابوداود،  بیہقی
(3)  امام ابن خرمؒ اندلسی کی محض وہم پر مشتمل اس غلطی پر کئی علماء نے گرفت کی ۔  جن میں امام ابن تیمیہؒ،  ابن القیمؒ  ،  حضرت شاہؒ ولی اللہ  اور  علامہ ناصر الدین الا لبانی  ؒ  شامل ہیں۔

Leave A Reply