خلیل الرحمن چشتی صاحب کی کتابوں کامختصر تعارف

0

1۔    قواعدِ ز بانِ قرآن (حصہ اول:

خلیل الرحمن چشتی صاحب کی قواعدِ زبانِ قرآن (اول و  دوم)کو بڑی مقبولیت حاصل ہوئی ، نہایت ہی کم وقت میں اس کے کئی ایڈیشن شائع ہوئے ، جبکہ کتاب دو ضخیم جلدوں پر یعنی ہر جلد تقریبا آٹھ سو (800)صفحات پر مشتمل ہے ۔ اس کتاب میں عربی کے قواعد بیان کرنے کے بعد ، کثرت سے قرآنی مثالیں پیش کی گئی ہیں ۔
یہ اللہ کے کلام کی برکت ہے اور اللہ کے کلام کو سمجھنے کے لیے تعلیم یافتہ افراد میں پایا جانے والا شوقِ بے پایاں ہے ۔ نئی زبان کو سیکھنا آسان کام نہیں ہے ۔ گرائمر یعنی قواعد ایک خشک موضوع ہے ۔ اس کتاب کی ترتیب میں مرتب نے قواعد کی تمام پرانی کتابوں کو پیش نظر رکھا ہے اور ان سب سے استفادہ کیا ہے ۔ مولانا امین احسن اصلاحی   کے شاگرد مولانا خالد مسعود   نے اس کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے اس کی یہ خصوصیت بتائی ہے کہ مرتب نے طالب علم کی توجہ صرف اسی نکتے پر مرکوز رکھی ہے ، جو وہ اسے پڑھانا چاہتا ہے ۔ مرتب کی خواہش یہ ہوتی ہے کہ وہ نکتہ ، وہ قاعدہ اور وہ کلیہ پوری طرح گرفت میں آجائے ۔ مثالوں کی کثرت سے اس میں بڑی مدد ملتی ہے ۔ حافظِ قرآن کے لیے تو یہ کتاب اکسیر ہے ۔ تھوڑی سی محنت کرلے تو وہ تمام قواعد پر دسترس حاصل کر سکتا ہے ۔ مرتب کے پیشِ نظر جدید تعلیم یافتہ افراد اور بالغ مبتدی ہیں ۔ یہ کتاب بنیادی طور پر انہی کے لیے مفید ہے ، لیکن دینی مدارس کے طلبہ بھی اس سے بھر پور استفادہ کر سکتے ہیں ۔

2۔    قواعدِ زبانِ قرآن (حصہ دوم:)
قواعدِ زبانِ قرآن حصہ دوم میں ، ثلاثی مزید کے بارہ (12)ابواب میں ہر باب کی سات سات قسمیں ، کئی کئی قرآنی مثالوں کے ساتھ کھول دی گئی ہیں اور حروف پر بحث کی گئی ہے ۔ اردو زبان میں ہماری معلومات کی حد تک یہ پہلی مفصل کوشش ہے ۔
3۔    قرآنی سورتوں کا نظمِ جلی:
اس کتاب میں قرآن کی تمام ایک سوچودہ (114)سورتوں کا نظمِ جلی (Macro-Structure) بیان کیا گیا ہے ۔ ہر سور کے مضامین کو مختلف پیراگرافوں میں تقسیم کرکے مرکزی مضمون کی وضاحت کی گئی ہے ۔ سب سے پہلے سورت کے زمان نزول کا تعین صحیح احادیث اور خود قرآن کی داخلی شہادتوں کی روشنی میں کیا گیا ہے ۔ صحیح احادیث کی روشنی میں بعض سورتوں کے فضائل بیان کیے گئے ہیں ۔ پچھلی سورت اور اگلی سورت سے کتابی ربط کی وضاحت کی گئی ہے ۔ ہر سورت کے اہم اور کلیدی الفاظ اور مضامین کو کھولا گیا ہے ۔ ہر پیراگراف کا مختصر خلاصہ پیش کرکے آخر میں سورت کے مرکزی مضمون پر روشنی ڈالی گئی ہے ۔

4۔    آسان اصول تفسیر:
قرآن فہمی کے سلسلے میں بعض اساتذہ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ  کا مقدمہ پڑھاتے ہیں ، دوسری طرف الفوز الکبیرمیں بیان کردہ حضرت شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی   کے اصول کا خلاصہ پیش کرتے ہیں ، تیسری طرف بعض اساتذہ نظمِ قرآن کے حوالے سے مولانا حمید الدین فراہی  کے اسلوب کو پیش نظر رکھتے ہیں اور چوتھے مولانا سید ابو الاعلی مودودی نے چار بنیادی اصطلاحوں اور تفہیم القرآن میں تفسیر کا جو نیا منہج اختیار کیا ہے ، وہ بھی پیش نظر رکھتے ہیں ، جس سے صحیح عقیدے اور اتباعِ سنت رسول اللہ  ﷺ کے علاوہ ، قرآن کا سماجی ، سیاسی اور معاشی شعور بھی حاصل ہوتا ہے ۔  مندرجہ بالا چار بزرگوں کے اصولوں کو جمع کرکے یہ رسالہ آسان اصولِ تفسیرمرتب کیا گیا ہے اور مثالیں دی گئی ہیں تاکہ قرآن کا طالبِ علم بڑی بڑی غلطیوں سے بچ سکے ۔

5۔    درسِ قرآن کی تیاری کیسے ؟
قرآن فہمی کے حوالے سے ، {قواعدِ زبانِ قرآن} کے علاوہ ، خلیل الرحمن چشتی صاحب کی دوسری اہم کتاب درسِ قرآن کی تیاری کیسے ؟ہے ۔ الحمد للہ اس کتاب کو بھی عوامی مقبولیت حاصل ہوئی اور اس کے کئی ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں ۔ کسی مخصوص سورت کا درس دینا ہو ، یا کسی موضوع پر قرآنی درس دینا ہو ، دونوں سورتوں میں مدرس قرآن کے لیے یہ کتاب مفید ہے ۔ چند مشہور اردو تفاسیر کا تعارف کرایا گیا ہے اور مدرس کے لیے معاون کتابوں کی رہنمائی بھی کی گئی ہے ۔

6۔    سور ۃیٰس:
قرآنی سورتوں کے نظمِ جلی (Macro-Structure)اور نظمِ خفیف (Micro-Structure) کے تعارف کے لیے بطورِ مثال {سورۃ یس} کی تفسیر شائع کی گئی ہے ، جو کورسز کے دوران میں پڑھائی جاتی ہے ۔ چونسٹھ (64) صفحات پر مشتمل یہ کتابچہ ، سورت کے مرکزی مضمون ، سورت کی صوتیات ، سورت کی جلالی فضا ، سورت کے مضامین اور سورت کی بلاغت پر بحث کرتا ہے ۔ عربی متن کے ساتھ ترجمہ بین السطور ہے ، درمیان میں عنوانات دے دیے گئے ہیں ، تاکہ طالبِ علم مضامین کو بھی ساتھ ساتھ ذہن نشین کرتا جائے ۔

7۔    قیادت اور ہلاکتِ اقوام:
فہم قرآن کے حوالے سے خلیل الرحمن چشتی صاحب کی ایک اور اہم کتاب{ قیادت اور ہلاکتِ اقوام }ہے ۔ جو لوگ توجہ سے اس کتاب کو پڑھیں گے ، وہ قرآنِ مجید سے جدید دور کے مسائل کے سلسلے میں رہنمائی حاصل کرنے کے فن سے ان شا اللہ آشنا ہو جائیں گے ۔  دو سو(200)صفحات پر مشتمل یہ کتاب سب سے پہلے اللہ تعالی کی صفاتِ عدل پر روشنی ڈالتی ہے ، پھر مختلف قوموں کی ہلاکت کی تاریخ بیان کرتی ہے ، پھر ہلاکت کے بیس(20)سے زیادہ اسباب پر روشنی ڈالتی ہے ۔ ہلاکت کے اصول ، ہلاکت کے مقاصد اور ہلاکت کا طریقہ کار بیان کرنے کے بعد مسلم قیادت کو غور وفکر کی دعوت دیتی ہے کہ قرآن مجید کی تعلیمات کی روشنی میں قیادت کا لائحہ عمل کیا ہونا چاہیے ۔

8۔    حدیث کی اہمیت اور ضرورت:
اصول حدیث اور اصطلاحاتِ حدیث بھی ایک ادق مضمون ہے ۔ صحیح حدیث کی تعریف کیا ہے ؟ حسن کسے کہتے ہیں ؟ ضعیف کی کتنی قسمیں ہیں ۔ موضوع (Fabricated)احادیث کیا ہوتی ہے ؟ یہ کتاب ان سب کی وضاحت کرتی ہے ۔ روایتِ احادیث کے سلاسل کو سمجھنا بھی ایک مبتدی کے لیے دشوار مرحلہ ہوتا ہے ۔ اس فن کو بھی آسان کرنے کے لیے یہ کتاب {حدیث کی اہمیت اور ضرورت}  مرتب کی گئی ہے ۔
الحمد للہ اس کتاب کے بھی کئی ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں اور کئی مدارس کے نصاب میں بھی یہ کتاب شامل کر لی گئی ہے ۔ انگریزی اور سندھی میں اس کا ترجمہ ہو چکا ہے ۔ سلاسلِ احادیث کو سمجھنے کے لیے آسان چارٹ بنا دیے گئے ہیں ، تاکہ کتب مشہورہ کے راویوں سے لے کر رسول اللہ  ﷺ تک سند کے اتصال کو واضح کیا جائے ۔ صحابہ   تابعین   ، تبع تابعین   اور تبع تبع تابعین   اور دیگر مشہور محدثین کا اختصار سے تذکرہ کیا گیا ہے ۔ منکرینِ حدیث کے چند مشہور اور بنیادی اعتراضات کا جواب دیا گیا ہے ۔ تین سو چوراسی (384)صفحات پر مشتمل دسواں ایڈیشن جدید اضافوں سے مزین ہے ۔ مہران اکیڈمی شکار پور ، سندھ نے اس کتاب کا سندھی ترجمہ بھی شائع کر دیا ہے ۔ انگریزی ترجمہ امریکہ اور کنیڈا میں مقبول ہے ۔

9۔    معارفِ نبوی  ﷺ:
حفظ کے مقصد کے تحت پانچ سو(500)سے زائد مختصر احادیث کا مجموعہ {معارفِ نبوی  ﷺ } کے نام سے شائع کیا گیا ہے ۔ کوشش کی گئی ہے کہ احادیث مختصر ہوں اور متنوع ہوں ، تاکہ دین کا مجموعی نظام سامنے آجائے ۔ اسلام ، ایمان ، وحی ،علم ، دعوت وتبلیغ ، ارکانِ اسلام ، احسان ، اذکارواوراد ، معاشرت ، اخلاقیات ، معاملات ، اجتماعیت ، سمع وطاعت ، امیر اور مامور کے فرائض ، شورائیت اور جہاد کے موضوعات پر مبنی یہ کتاب تقریبا چار سو (400)صفحات پر مشتمل ہے ۔ عربی متن کی کتابت کرائی گئی ہے ۔ اردو کے علاوہ انگریزی ترجمہ بھی کتاب کی زینت ہے ۔ عام مسلمانوں کے علاوہ اردو میڈیم اور انگریزی میڈیم کے طلبا دونوں اس سے استفادہ کرسکتے ہیں ۔ احادیث کی تخریج کر کے مکمل حوالے دیے گئے ہیں ۔  نوجوانوں کے لیے یہ کتاب نہایت مفید ہے ، وہ ان چھوٹی چھوٹی حدیثوں کو زبانی یاد کرکے رسول  ﷺ اور آپ کی سنتوں سے محبت قائم کرسکتے ہیں ۔

10۔    توحید اور شرک کی مختلف قسمیں:
عقید توحید پر بے شمار کتابیں لکھی گئیں ہیں اور لکھی جاتی رہیں گی ۔ اسلام کے نزدیک یہ وہ بنیادی عقیدہ ہے ، جس کے بغیر کوئی انسان جنت میں داخل ہی نہیں ہوسکتا ہے ۔ اس موضوع پر حضرت شاہ اسماعیل شہید  اور شیخ محمد بن عبدالوہاب   کی کتابیں دنیا میں بہت مشہور ہوئیں ۔ دو سو(200)صفحات پر مشتمل یہ کتاب{ توحید اور شرک کی مختلف قسمیں} اس لحاظ سے بہت ہی منفر د ہے کہ اس میں بنیادی طور پر قرآن مجید کی محکم آیات کی روشنی میں ، توحیدِ ذات ، توحیدِ اسما وصفات ، توحیدِ تنزیہہ ، توحید صفتِ علم ، توحیدِ صفتِ اختیار، توحیدِ الوہیت ، توحیدِ ربوبیت ، توحید دعا ، توحیدِ استغفار اور توحید تشریع یعنی توحیدِ حاکمیت پر مفصل بحث کر کے اس کے مقابل شرک کی مختلف قسموں کی وضاحت کی گئی ہے۔ جدید ایڈیشن میں مزید اضافے کیے گئے ہیں۔

11۔    رسالت اور منصبِ رسالت:
دین اسلام کو سمجھنے کے لیے عقید توحید ، عقید رسالت اور عقید آخرت کو سمجھنا نہایت ضروری ہے ۔ یہ مختصر رسالہ ، سب سے پہلے یہ بتاتا ہے کہ شاعر ، عابد ، جوگی ، فلسفی اور نبی ورسول میں بنیادی فرق کیا ہوتا ہے ۔ پھر رسولوں کے بارے میں قرآنی آیات کی روشنی میں وضاحت کرتا ہے کہ یہ کون ہوتے ہیں ؟ یہ دنیا میں کس لیے آتے ہیں ؟ رسولوں کی ذمہ داریاں کیا ہوتی ہیں ؟ آخر میں نبی اخرالزمان حضرت محمد مصطفی ﷺ کی ذمہ داریوں اور ان کی رسالت کی خصوصیات پر بحث کی گئی ہے ۔
12۔  آخرت اور فکر آخرت:
اس رسالے کے اب تک کئی ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں ۔ یہ رسالہ دنیا اور آخرت کی حقیقت بیان کرنے کے بعدآخرت کے مختلف مراحل سے بحث کرتا ہے ۔ قبر کی زندگی ، روز قیامت کی عدالت ، جنت کی مادی اور روحانی نعمتیں ، دوزخ کی مادی اور روحانی سزائیں اس کتاب کے اہم ترین موضوعات ہیں ۔ قرآن مجید کی محکم آیات کی روشنی میں ، ان بڑے بڑے گناہوں کی وضاحت کی گئی ہے جو دوزخ کے عذاب کا سبب بن سکتے ہیں ۔

13۔  اسلام میں نجات کا تصور اور عقید شفاعت:
اسلام میں نجات (Salvation)کی تین (3)بنیادیں ہیں۔ اولا ایمان اور صحیح عقید توحید ، ثانیا آخری رسول حضرت محمد مصطفی ﷺ کی سنت کے مطابق اعمال ، جنہیں قرآن{ الاعمال الصالحات } کہتا ہے  او ر  ثالثااللہ تعالی کی رحمت  یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر رسول اللہ  ﷺ کی شفاعتِ عظمی اور علما ، شہدا ، صالحین وغیرہ کی شفاعت کیا مرتبہ اور مقام رکھتی ہے ؟ یہ کتاب اس طرح کے سوالوں کا جواب دیتی ہے ۔ قرآن مجید اور صحیح اور مستند احادیث کی روشنی میں شفاعت کی مختلف نوعیتوں کی وضاحت کی گئی ہے اور ان اعمال پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے ، جو قیامت کے دن ایک مسلمان کی سفارش اور شفاعت کریں گے ۔

14۔  تزکیہ نفس:
اصلاحِ ذات ، فروغِ ذات اور تحسینِ ذات کے حوالے سے چشتی صاحب کی اہم ترین کتاب {تزکیہ نفس }ہے ۔ یہ کتاب تین مباحث پر مبنی ہے ۔
(1)  تزکیہ نفس کا مفہوم اور ماہیت ۔             (2)  تزکیے کے اصول وقواعد
(3)  تزکی نفس کے حصول کی بارہ (12) عملی تدبیریں
تصوف اور تزکیہ نفس کے سلسلے میں افراط وتفریط عام ہے ۔ دو سوتیس (230)صفحات پر مشتمل اس کتاب میں ، قرآن مجید کے محکم دلائل اور مستند اور صحیح احادیث کی روشنی میں فروغِ ذات اور تحسین ذات کے خالص مسنون طریقوں کو اجاگر کیا گیا ہے ۔

15۔مراسمِ نماز اور روحِ نماز:
نماز کے موضوع پر دنیا میں کئی ہزار کتابیں لکھی گئیں ہیں اور قیامت تک لکھی جاتی رہیں گی ، لیکن ایک سواٹھارہ (118)صفحات پر مشتمل یہ کتاب ، ایک منفرد چیز ہے ۔ نہایت اختصار کے ساتھ نماز کے تمام ارکان کی ظاہری ہیئت کو صحیح اور مستند احادیث کی روشنی میں واضح کیا گیا ہے ۔ ہر رکن کی معنویت کو اجاگر کیا گیا ہے ۔ اس کتاب کی تصنیف کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ اس کتاب کو پڑھنے والا اپنی نماز کے معیار (Quality)کو بہتر بنا سکے ۔ جو شخص اس کتاب کی ساری مسنون دعاں کو یاد کرلے گا ، ان کا ترجمہ ذہن نشین کرلے گا اور پھر خشوع اور خضوع کے ساتھ اپنی نماز کو ادا کرنے کی کوشش کرے گا ، وہ یقینا دن بہ دن اپنی نماز کو بہتر بناتا جائے گا ۔

16۔  انفاق فی سبیل اللہ:
توحید اور نماز کے بعد ، انسان سے خالق کائنات کا تیسرا مطالبہ{ انفاق} کا ہے ۔زکوۃ اسلام کا تیسرا رکن ہے ۔ ایک سوبیالیس (142)صفحات پر مشتمل یہ کتاب اِمساک ، بخل ، شحِ نفس وغیرہ کی تعریف کرکے عام انفاق اور انفاق فی سبیل اللہ کے فرق کو نمایاں کرتی ہے ۔ انفاق کے بنیادی اصول بیان کرنے کے بعد ، فضائل انفاق ، فلسف انفاق ، آدابِ انفاق ، ترتیب انفاق ، مقاصدِ انفاق ، اوقاتِ انفاق اور مقدار انفاق جیسے موضوعات پر تفصیلی بحث کے بعد عدم انفاق کے عواقب ونتائج پر روشنی ڈالتی ہے ۔

17۔    نمازِ تہجد:
ساٹھ(60)صفحات پر مشتمل یہ مختصر رسالہ ، نمازِ تہجد کی اہمیت ، فضیلت اور احکام ومسائل پر مشتمل ہے ۔ نمازِ تہجد ایک مسنون عبادت ہے ، ایک وسیل تقرب ہے ۔ یہ سامان فروغ ذات اور ذریع تحسین ذات ہے ۔ ایک اعلی جذب تشکر اور احساسِ عبودیت ہے ۔ اپنی بے بضاعتی پر ایک احساسِ ندامت ہے ۔ اللہ کی بے عیبی کا اظہار واعتراف ہے ۔ ایک وظیف خواص وصالحین ہے ۔ ایک نصابِ قیادت ہے ۔ ایک مجلسِ تفقہ ہے ۔ ایک محفلِ تدبر ہے ۔ ایک علمی نشست ہے ۔ ایک روحانی تربیت گاہ ہے ۔  اسلامی قیادت کے لیے ضروری ہے کہ وہ تزکی نفس اور فہم قرآن میں اضافہ کے لیے اس اہم ترین نفل ، لیکن ضروری عبادت کی اہمیت کو سمجھ کر اس پر عمل پیرا ہونے کی بھرپور کوشش کرے ۔

18۔    اعتکاف:
اعتکاف ایک ایسی عبادت ہے ، جس کے بے شمار فوائد ہیں ۔ آخری عشرے کے اعتکاف کا کم سے کم فائدہ یہ ہے کہ لیل القدر مل جاتی ہے ۔ چھتیس (36)صفحات پر مشتمل یہ مختصر رسالہ اعتکاف کی اہمیت اور اس کے فضائل واحکام پر بحث کرتا ہے ۔ اس کے فوائد کی روشنی میں اس اہم ترین نفل عبادت کی ترغیب دیتا ہے ۔

٭٭٭٭٭

Leave A Reply