مولانا مودودی اور امام ابن تیمیہ

0

دونوں مجدد ہیں۔ ایک نے حنبلی گھرانے میں آنکھ کھولی۔ دوسرے نے حنفی ماحول میں۔ دونوں نے اپنے پس منظر سے اوپر اٹھنے اور اٹھانے کی کوشش کی۔ تفردات دونوں کے ہاں ہیں۔ دونوں نقاد ہیں۔ دونوں کی کتابیں پڑھ کر آدمی اپنے آپ کو اور دنیا کو بدلنے کا عزم پیدا کرلیتا ہے۔
امام کے زمانے کے فتنے اور تھے مولانا کے اور۔ مولانا نے دین کو ایک نظام کے طور پر پیش کیا۔
امام کے زمانے میں تاتاری فتنہ تھا۔ تصوف اور تشیع کی نیرنگیاں تھیں۔حشاشین تھے۔ یونانی فلسفہ تھا۔ تقلید جامد تھی۔ امام کے سامنے متشدد حنفی ، بریلوی ، نیشنلسٹ دیو بندی اور متشدد اہل حدیث نہیں تھے۔
مولانا کے زمانے میں پرویزیت تھی۔ قادیانیت تھی۔ قومیت تھی۔ کمیونزم تھا۔ کیپٹلزم تھا۔ جدید معاشی نظریات تھے۔ استعمار تھا۔ انگریزوں کی حکومت اور دو بڑی عالمی جنگیں مولانا نے دیکھیں۔ہر شخص اپنے زمانے سے الگ نہیں ہو سکتا۔ غرض بعض اعتبارات سے وہ ایک دوسرے سے کم تر اور بعض اعتبارات سے ایک دوسرے پر فائق تھے۔ البتہ ایک تحریک برپا کرنا یہ الگ کارنامہ ہے۔

Leave A Reply