قیادت اور ہلاکت اقوام

0

3  رمضان 1426 ھ  ،  مطابق   8  اکتوبر 2005ء کے زلزلے نے پاکستان کے عوام کو ہلا کر رکھ دیا۔ بڑے جھٹکے کے بعد ایک ہزار سے زیادہ چھوٹے زلزلے ریکارڈ کیے گئے ہیں ۔ اِن کا سلسلہ ہنوز جاری ہے ۔ مکان ، ہوٹل اور ریسٹورنٹ زمین بوس ہوگئے ۔ دریا خشک ہوگئے ۔ مکان اور مکین زمین میں دھنسا دیے گئے ۔ عہدِ قارون کی طرح   خَسْف الارض کا مشاہدہ ہوا ۔سرکاری اَعداد و شمار کے مطابق تاحال  92,000  افراد لقمۂ اجل بن چکے ہیں اور کئی لاکھ زخمی ہیں ۔ کئی ہزار معذور ہیں ۔ بے شمار افراد  اب بھی موت و حیات کی کشمکش سے دو چار ہیں۔
اِنَّا  لِلّٰہِ  واِنَّا  اِلَیْہِ  رَاجِعُوْن !
مرنے والوں میں بدکردار بھی تھے ، نیک بھی تھے ۔ بچے بھی تھے اور بوڑھے بھی۔ مرد بھی تھے اور عورتیں بھی۔ ہمارے اخبارات کے کالموں میں یہ بحث چل پڑی ہے کہ یہ زلزلہ اور اُس کے نتیجے میں ہونے والی یہ ہلاکتیں  ،  عذاب تھیںیا آزمائش ؟  تنبیہ تھی  یا  ایک زیرِ زمین فطری عمل ؟ کتنوں نے اس سے عبرت اور نصیحت حاصل کی او ر کتنے خرگوش ایسے ہیں  ،  جو  اب بھی محوِ خواب ہیں۔انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ہلاکت زلزلے سے بھی ہو سکتی ہے  ،  سیلاب سے بھی  ،  وبائوں اور بیماریوں سے بھی ہو سکتی ہے اور طوفانِ برق و باراں سے بھی ۔
{ فَبِاَیِّ  اٰلَآئِ  رَبِّکُمَا  تُکَذِّبٰنِ } (الرحمٰن : 28)
اللہ تعالیٰ نے سورۃ الانفال میں مسلمانوں کو واضح الفاظ میں خبردار کیا ہے :
{وَاتَّـقُوْا فِتْنَۃً لَا تُصِیَبنَّ الَّذِیْنَ ظَـلَـمَوا مِنْکُمْ خَاصَّۃً} (الانفال : 25)
’’ اور اُس فتنے سے ڈرو!  جو صرف تمہارے ظالموں ہی کے لیے مخصوص نہیں ہوگا ‘‘
( بلکہ غیر ظالم اور معصوموں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لے گا) ۔

Leave A Reply